اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں نے عراق اور بحیرہ روم کے ساحل کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے شام کی اہمیت کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ اسی صورتحال کے باعث دمشق نے بحیرہ روم میں ترکی، لبنان اور اسرائیل کی متبادل بندرگاہوں کے باوجود اپنی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
عراق گزشتہ جولائی کے آغاز سے شام کے راستے روزانہ تقریباً 50 ہزار بیرل خام تیل بحیرہ روم کی بندرگاہ طرطوس تک پہنچا رہا ہے۔ یہ برآمدات ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد شروع ہوئی ہیں۔
شام کے محققین اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ شام کی سرزمین خلیج فارس کے عرب ممالک اور ترکی و یورپ کے درمیان تیل اور سامان کی ترسیل کو جوڑنے کا مرکزی راستہ بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق ایران کی جنگ اور باب المندب میں فوجی صورتحال نے ایک بار پھر شام کی جغرافیائی اہمیت واضح کردی ہے۔
حماہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اکنامکس کے استاد ڈاکٹر عبدالرحمن محمد نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب کی صورتحال نے روایتی سمندری راستوں کو غیر محفوظ کردیا ہے، جس کے باعث متبادل زمینی راستوں کی تلاش ناگزیر ہوگئی ہے۔
انہوں نے ’’سوریہ الآن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کی اہمیت اس کی بندرگاہوں میں نمایاں ہوتی ہے، خصوصاً بانیاس کی بندرگاہ جو عراق اور خلیجی ممالک کے لیے بحیرہ روم کی قریب ترین بندرگاہ ہے۔
ان کے مطابق عراق کے تیل کی زمینی ترسیل عارضی ہے اور اس وقت ایک ایسی پائپ لائن کے منصوبے پر عمل درآمد کا انتظار ہے جسے بین الاقوامی کمپنیوں کا اتحاد کرکوک سے بانیاس تک بچھانے کی قیادت کر رہا ہے۔
شام کی حکومت نے گزشتہ 17 جولائی کو واشنگٹن میں عراق اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اتحاد کے ساتھ کرکوک۔بانیاس خام تیل کی پائپ لائن کی بحالی اور دوبارہ فعال کرنے کے لیے دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔
شامی آئل کمپنی کے سربراہ یوسف قبلاوی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اتحاد کے نمائندوں، جن میں شیورون، یو سی سی ہولڈنگ اور ٹی آئی کیپیٹل شامل ہیں، کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں فریقوں نے ’’منصوبے کے تکنیکی و مالی مطالعات اور عملی نفاذ کی بنیاد‘‘ تیار کرنے کا کام شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ اس پائپ لائن کی یومیہ ترسیلی صلاحیت 20 لاکھ بیرل بتائی گئی ہے۔
محقق عزیز موسیٰ نے بھی ’’خطے کی توانائی کی برآمدات میں مشکلات کم کرنے‘‘ میں شام کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ’’سوریہ الآن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد عراق نے اپنا تیل زمینی راستے سے بانیاس کی بندرگاہ تک پہنچا کر برآمد کرنا شروع کیا ہے۔
ان کے مطابق اس راستے سے برآمد ہونے والے تیل کی مقدار ’’ابھی بھی سمندری ترسیل کے مقابلے میں معمولی ہے، کیونکہ سمندری راستہ زیادہ لچک اور زیادہ مقدار میں ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے‘‘۔
موسیٰ نے مزید کہا کہ شام ’’سمندری گزرگاہوں کی رکاوٹوں سے آگے ایک اہم راستے‘‘ کے طور پر سامنے آسکتا ہے اور ایک واضح منصوبے کے تحت ’’مکمل متبادل کے بجائے ایک متوازی راستہ‘‘ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول میں کئی چیلنجز موجود ہیں، جن میں سب سے اہم بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔
موسیٰ نے خلیجی ممالک سے اردن اور پھر شام کے راستے بحیرہ روم تک تیل کی پائپ لائنیں بچھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ان منصوبوں کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہیں۔ اس کے علاوہ پائپ لائنوں کی تعمیر کے لیے استحکام بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انہیں مختلف گروہوں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
حماہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف اکنامکس کے استاد نے شام کو تیل سمیت اقتصادی روابط کے لیے استعمال کرنے میں خلیجی ممالک کی دلچسپی کے اشاروں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق خلیجی سوچ دیگر زمینی متبادل راستوں کے مقابلے میں شام کو ’’کم لاگت اور زیادہ گنجائش رکھنے والے متبادل‘‘ کے طور پر طویل المدت بنیادوں پر استعمال کرنے پر مبنی ہے۔
موسیٰ نے بھی شام کو ایک متوازی اقتصادی شریان میں تبدیل کرنے کے مضبوط امکانات کی طرف اشارہ کیا اور خلیج فارس کو ترکی سے ملانے والی ریلوے لائن کی بحالی کے منصوبے کی بات کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شام اس منصوبے میں ’’مرکزی رابطہ‘‘ ہوگا۔
اس شامی محقق نے ان تزویراتی منصوبوں کے لیے سیاسی اتفاق رائے، مالی وسائل اور قانونی و سرمایہ کاری کے ایسے ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا جو کمپنیوں کو شام میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرسکے۔ انہوں نے کرکوک۔بانیاس پائپ لائن کو توانائی کی ترسیل میں شام کے کردار کی واضح مثال قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’خلیجی ممالک کی جانب سے شام کو توانائی کے راستے کے طور پر استعمال کرنے میں شامل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں‘‘۔
ان کے مطابق سعودی عرب شام میں سرمایہ کاری کے لیے دو متوازی شعبوں، توانائی اور ڈیجیٹل و ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ایسے بنیادی ڈھانچے کی تیاری کے منصوبے کی نشاندہی کرتی ہے جو مستقبل میں کسی بھی بڑے پائپ لائن منصوبے کے لیے موزوں ہوسکتا ہے، تاہم ان کے مطابق اس کام کو درمیانی اور طویل مدت میں مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔
ڈاکٹر عبدالرحمن محمد نے کہا کہ ترکی شام کے مقابلے میں توانائی کی ترسیل کے مرکز کے طور پر سب سے مضبوط حریف ہے۔ انہوں نے کرکوک۔جیہان پائپ لائن کو بصرہ تک توسیع دینے کی تجاویز کا بھی ذکر کیا اور اسے شام کے راستے کے مقابلے میں براہ راست متبادل قرار دیا، جسے پہلے سے موجود بنیادی ڈھانچے اور سیاسی استحکام کا فائدہ حاصل ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے گزشتہ اپریل میں ایک نئی تیل پائپ لائن بنانے کی تجویز پیش کی تھی جو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے مقصد سے جنوبی عراق کو بحیرہ روم میں واقع ترکی کی جیہان بندرگاہ سے منسلک کرے گی۔
تاہم، انہوں نے لبنان کی بندرگاہوں سے پیدا ہونے والے مقابلے کو کم اہم قرار دیا اور کہا کہ لبنان کی صورتحال زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ لبنانی بندرگاہوں سے تیل کی ترسیل شام کے راستے زمینی نقل و حمل پر منحصر ہے۔ اسی وجہ سے لبنان کا کردار شام کے کردار کے مقابلے میں تکمیلی ہے، حریفانہ نہیں۔
اس شامی ماہر تعلیم نے اسرائیلی مسابقت سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ جغرافیائی و سیاسی منطق کے تحت اسرائیلی راستے کو بہترین قرار دینے والے بیانات سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق ایلات۔اشکلون پائپ لائن فوری طور پر استعمال کے لیے تیار ہے، تاہم ’’خلیجی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو طویل المدت راستے کے طور پر قبول کرنا اب بھی مشکوک ہے‘‘۔
گزشتہ مارچ میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نیوز میکس سے گفتگو میں جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے ’’قابلِ توجہ‘‘ تجاویز کا ذکر کیا تھا، جن کا تعلق خلیج فارس سے بحیرہ روم کی بندرگاہوں تک توانائی اور تیل کی پائپ لائنوں میں تبدیلی سے تھا۔
محقق موسیٰ نے وضاحت کی کہ ترکی اور سعودی عرب ایسے زمینی راستے کے قیام کے لیے کوشش کر رہے ہیں جو خلیجی ممالک کو شام اور اردن کے ذریعے یورپ سے نقل و حمل
آپ کا تبصرہ